Pay in installments of $50.00 with
,
and
Shipping Estimate
USA
- USA
- CAN
- USA
- CAN
Ships within 48 hours · Estimated delivery Oct 1 - Oct 6
For Your Every Summer RSVP, with Code: SUMMER15
Description
سیر لاہور | Seir Lahore | Syed Faizan Abbas Naqvi2020 144 1868 1936 : :
سیر لاہور
مصنف | رائے صاحب منشی گلاب سنگھ
ترتیب و حواشی | سیّد فیضان عباس نقوی
اشاعت | 2020ء
صفحآت 144
لاہور کا شمار برصغیر کے قدیم ترین شہروں میں ہوتا ہے، اس بارے کوئی دو آرا نہیں ہیں۔ اگر کچھ اختلاف ہے تو وہ اس بات پر ہے کہ لاہور کو کس نے اور کب بسایا اور اس کے نام کی وجہ تسمیہ کیا ہے۔ دنیا کے بڑے شہروں کی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ان کو بسانے کے پس پشت مذہبی، تجارتی اور معاشی وجوہات رہی ہیں اور اس کو بسانے والا کوئی ایک شخص نہیں بلکہ قبائل اور برادریاں تھیں۔لاہور کا نام لاہو، لوہارو، لاوا یا کچھ اور تھا اس بابت بھی مورخین میں اختلاف پایا جاتا ہے اس اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ لاہور کی ابتدائی تاریخ کی بابت مصدقہ معلومات بہت کم ہیں۔
لاہور پر مختلف ادوار میں غزنوی، غوری، مغل،ابدالی اور سکھ حکمران رہے لیکن سولہویں صدی کے اواخر اور اٹھارویں صدی کی ابتدا تک مغل دور اقتدار میں لاہور کو بہت زیادہ اہمیت رہی کیونکہ مغلوں نے کچھ سالوں تک اس کو اپنا دارالحکومت بنایا تھا۔
انیسویں صدی کے اوائل میں جب رنجیت سنگھ نے پنجاب پر اپنی حکومت قائم کی تو اس نے اپنی سرکار کو لاہور دربار کا نام دیا تھا۔رنجیت سنگھ کے دور اقتدار نے لاہور کو نئی شناخت دی اور لاہور نہ صرف ہندوستان بلکہ بین الاقوامی طور پر بہت زیادہ اہمیت اختیار کرگیا تھا۔
سکھ سلطنت کے انہدام کے بعد جب ایسٹ انڈیا کمپنی اور بعد ازاں تاج برطانیہ لاہور پر قابض ہوا تو لاہور کی تاریخ کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا تھا۔ اب لاہور برصغیر کی سیاسی، سماجی اور ثقافتی تحریکوں کا اہم مرکز بن گیا تھا۔کوئی سیاسی اور سماجی تحریک اس وقت تک کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکتی تھی جب تک کہ لاہور اس تحریک کی تائید نہیں کرتا تھا۔برطانیہ سے مکمل آزادی کی قراردار ہو یا قیام پاکستان کی قرارداد دونوں ہی لاہور میں منظور ہوئی تھیں۔
برطانوی عہد کا لاہور متعدد مذاہب، متنوع ثقافتوں اور لسانی شناختوں کا مرقع تھا۔ خوبصورت مندر، عالی شان مساجد، گردوارے اور چرچ اس کی پہچان تھے۔ لاہور کے تعلیمی ادارے اور اس کے کشادہ اور روشن بازار اور باغات اس کو پورے برصغیر میں اپنی مثال آپ تھے۔
لاہور کی پہچان جہاں اس کی ماضی کی شاندار تاریخ ہے جس کے آثار و باقیات آج بھی ہم میں موجود ہیں اور دوسرے وہ اہل علم ہیں جنھوں نے لاہور کو اپنی تحریروں کا موضوع بنایا۔انھوں نے لاہور بارے اپنے تذکروں اور یادداشتوں میں جس انداز میں لاہور کی زندگی کے مختلف رنگوں کو بیان کیا ہے اس نے لاہور کو زندہ جاوید بنادیا ہے۔
برطانوی قبضے کے بعد لاہور بارے سب سے پہلی کتاب مولوی نور احمد چشتی نے 1868میں تحقیقات چشتی کے عنوان سے لکھی تھی۔ نوراحمد چشتی کی یہ کتاب لاہور بارے معلومات کا خزانہ ہے۔ لاہور بارے اس کے بعد جو دوسری کتاب لکھی گئی وہ رائے بہادر کنہیا لعل ہندی کی تاریخ لاہور تھی جو اپنے مواد اور زبان و بیان کے اعتبار سے آج بھی بہت مقبول ہے۔ اندرون شہر لاہور سے تعلق رکھنے والے سید محمد لطیف کی تاریخ لاہور، کرنل بھولا ناتھ وارث کی تاریخ شہر لہور اور منشی محمددین فوق کی مآ ثر لاہور،لاہور کی تاریخ پر بہت اہم کتابیں ہیں۔ ان کتابوں میں لاہور کی تاریخ، تاریخی عمارتوں، مذاہب، ثقافتوں اوراس کے وسنیکوں کی زندگی کے مختلف رنگوں کو بیان کیا گیا ہے۔
تقسیم ہند کے بعد لاہور سے بحالت مجبوری نقل مکانی کرنے والے ہندو، سکھ اور دیگر غیر مسلم لکھاریوں نے اپنی جنم بھومی لاہور سے زبردستی جدا کئے جانے کے غم اور اداسی کو اپنی یاداشتوں میں سمویا۔ان میں سوم آنند کی’کہاں گیا میرا شہر لاہور‘،گوپال متل کی’لاہورکا جو ذکر کیا‘، سنتوش کمار کی ’لاہور نامہ‘ ایسی کتابیں ہیں جن میں لاہور کا وہ رنگ نظر آتا ہے جو ہم اب ہمیشہ کے لئے کھو چکے ہیں اور یہ وہ لاہور تھا جو آج کے فرقہ ورانہ تنازعات اور بنیاد پرستی کی فضا میں لتھڑے ہوئے لاہور کے مقابلے میں ایک خواب لگتا ہے۔
’سیر لاہور‘ پروفیسر گلاب سنگھ کی تحریر کردہ ہے۔ پروفیسر گلاب سنگھ جغرافیہ کے استاد تھے۔ یہ کتاب انھوں نے 1936 میں لکھی تھی جو سکول کے ابتدائی کلاسز کے طلبا کے لئے تھی۔ پروفیسر گلاب سنگھ نے طلبا کے ذہنی معیار اور صلاحیت کے پیش نظر رکھتے ہوئے لاہور کی نہایت آسان پیراے میں لاہور کی سیر کروائی ہے۔ پروفیسر گلاب سنگھ نے لاہور کی تمام قابل ذکر عمارتوں۔۔ ٹاون ہال،عجائب گھر، اسمبلی ہال، چڑیا گھر، گورنر ہاوس کو متعارف کروایا ہے۔ لاہور کی تاریخی عمارتوں۔۔ مقبرہ جہانگیر، شالا مار باغ، سمادھ مہاراجہ رنجیت سنگھ،سماج گورو ارجن دیو جی، بادشاہی مسجد، اور شاہی قلعہ کا بیان بھی بہت دلچسپ ہے۔ گلاب سنگھ اندرون شہر، اس کے مختلف بازار وں، محلوں اور وہاں موجود مختلف عمارتوں اور ان کی تاریخ کو آسان اور سلیس زبان میں بیان کرتے ہیں۔لاہور کا موسم، لاہور کے اردگرد موجود نہریں اور ندی نالے، ضلع لاہور کی سیر بذریعہ ریل، لاہور کا موسم اور لاہور سے متعلق ہر تفصیل پروفیسر گلاب سنگھ کی اس کتاب میں موجود ہے۔
اس کتاب کو سید فیضان عباس نقوی نے مرتب کیا ہے۔
کتاب: سیر لاہور
مصنف: رائے صاحب منشی گلاب سنگھ
لاہور پر مختلف ادوار میں غزنوی، غوری، مغل،ابدالی اور سکھ حکمران رہے لیکن سولہویں صدی کے اواخر اور اٹھارویں صدی کی ابتدا تک مغل دور اقتدار میں لاہور کو بہت زیادہ اہمیت رہی کیونکہ مغلوں نے کچھ سالوں تک اس کو اپنا دارالحکومت بنایا تھا۔
انیسویں صدی کے اوائل میں جب رنجیت سنگھ نے پنجاب پر اپنی حکومت قائم کی تو اس نے اپنی سرکار کو لاہور دربار کا نام دیا تھا۔رنجیت سنگھ کے دور اقتدار نے لاہور کو نئی شناخت دی اور لاہور نہ صرف ہندوستان بلکہ بین الاقوامی طور پر بہت زیادہ اہمیت اختیار کرگیا تھا۔
سکھ سلطنت کے انہدام کے بعد جب ایسٹ انڈیا کمپنی اور بعد ازاں تاج برطانیہ لاہور پر قابض ہوا تو لاہور کی تاریخ کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا تھا۔ اب لاہور برصغیر کی سیاسی، سماجی اور ثقافتی تحریکوں کا اہم مرکز بن گیا تھا۔کوئی سیاسی اور سماجی تحریک اس وقت تک کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکتی تھی جب تک کہ لاہور اس تحریک کی تائید نہیں کرتا تھا۔برطانیہ سے مکمل آزادی کی قراردار ہو یا قیام پاکستان کی قرارداد دونوں ہی لاہور میں منظور ہوئی تھیں۔
برطانوی عہد کا لاہور متعدد مذاہب، متنوع ثقافتوں اور لسانی شناختوں کا مرقع تھا۔ خوبصورت مندر، عالی شان مساجد، گردوارے اور چرچ اس کی پہچان تھے۔ لاہور کے تعلیمی ادارے اور اس کے کشادہ اور روشن بازار اور باغات اس کو پورے برصغیر میں اپنی مثال آپ تھے۔
لاہور کی پہچان جہاں اس کی ماضی کی شاندار تاریخ ہے جس کے آثار و باقیات آج بھی ہم میں موجود ہیں اور دوسرے وہ اہل علم ہیں جنھوں نے لاہور کو اپنی تحریروں کا موضوع بنایا۔انھوں نے لاہور بارے اپنے تذکروں اور یادداشتوں میں جس انداز میں لاہور کی زندگی کے مختلف رنگوں کو بیان کیا ہے اس نے لاہور کو زندہ جاوید بنادیا ہے۔
برطانوی قبضے کے بعد لاہور بارے سب سے پہلی کتاب مولوی نور احمد چشتی نے 1868میں تحقیقات چشتی کے عنوان سے لکھی تھی۔ نوراحمد چشتی کی یہ کتاب لاہور بارے معلومات کا خزانہ ہے۔ لاہور بارے اس کے بعد جو دوسری کتاب لکھی گئی وہ رائے بہادر کنہیا لعل ہندی کی تاریخ لاہور تھی جو اپنے مواد اور زبان و بیان کے اعتبار سے آج بھی بہت مقبول ہے۔ اندرون شہر لاہور سے تعلق رکھنے والے سید محمد لطیف کی تاریخ لاہور، کرنل بھولا ناتھ وارث کی تاریخ شہر لہور اور منشی محمددین فوق کی مآ ثر لاہور،لاہور کی تاریخ پر بہت اہم کتابیں ہیں۔ ان کتابوں میں لاہور کی تاریخ، تاریخی عمارتوں، مذاہب، ثقافتوں اوراس کے وسنیکوں کی زندگی کے مختلف رنگوں کو بیان کیا گیا ہے۔
تقسیم ہند کے بعد لاہور سے بحالت مجبوری نقل مکانی کرنے والے ہندو، سکھ اور دیگر غیر مسلم لکھاریوں نے اپنی جنم بھومی لاہور سے زبردستی جدا کئے جانے کے غم اور اداسی کو اپنی یاداشتوں میں سمویا۔ان میں سوم آنند کی’کہاں گیا میرا شہر لاہور‘،گوپال متل کی’لاہورکا جو ذکر کیا‘، سنتوش کمار کی ’لاہور نامہ‘ ایسی کتابیں ہیں جن میں لاہور کا وہ رنگ نظر آتا ہے جو ہم اب ہمیشہ کے لئے کھو چکے ہیں اور یہ وہ لاہور تھا جو آج کے فرقہ ورانہ تنازعات اور بنیاد پرستی کی فضا میں لتھڑے ہوئے لاہور کے مقابلے میں ایک خواب لگتا ہے۔
’سیر لاہور‘ پروفیسر گلاب سنگھ کی تحریر کردہ ہے۔ پروفیسر گلاب سنگھ جغرافیہ کے استاد تھے۔ یہ کتاب انھوں نے 1936 میں لکھی تھی جو سکول کے ابتدائی کلاسز کے طلبا کے لئے تھی۔ پروفیسر گلاب سنگھ نے طلبا کے ذہنی معیار اور صلاحیت کے پیش نظر رکھتے ہوئے لاہور کی نہایت آسان پیراے میں لاہور کی سیر کروائی ہے۔ پروفیسر گلاب سنگھ نے لاہور کی تمام قابل ذکر عمارتوں۔۔ ٹاون ہال،عجائب گھر، اسمبلی ہال، چڑیا گھر، گورنر ہاوس کو متعارف کروایا ہے۔ لاہور کی تاریخی عمارتوں۔۔ مقبرہ جہانگیر، شالا مار باغ، سمادھ مہاراجہ رنجیت سنگھ،سماج گورو ارجن دیو جی، بادشاہی مسجد، اور شاہی قلعہ کا بیان بھی بہت دلچسپ ہے۔ گلاب سنگھ اندرون شہر، اس کے مختلف بازار وں، محلوں اور وہاں موجود مختلف عمارتوں اور ان کی تاریخ کو آسان اور سلیس زبان میں بیان کرتے ہیں۔لاہور کا موسم، لاہور کے اردگرد موجود نہریں اور ندی نالے، ضلع لاہور کی سیر بذریعہ ریل، لاہور کا موسم اور لاہور سے متعلق ہر تفصیل پروفیسر گلاب سنگھ کی اس کتاب میں موجود ہے۔
اس کتاب کو سید فیضان عباس نقوی نے مرتب کیا ہے۔
کتاب: سیر لاہور
مصنف: رائے صاحب منشی گلاب سنگھ
Shipping Notes
- Free Standard Shipping on $100+ Orders to the USA.
- Except Preorder products are shipped in 48 hours.
- Delivery to the USA:
- Standard Shipping : 3-10 business days
- If time is of the essence, please consider selecting expedited delivery for faster service.
Exchange/Return Notes
- We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
- Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
- To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
- Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy
4.8 ★★★★★
Based on 16 reviews
Sort
Product Reviews
★★★★★ 5
Excellent toothbrushes!
Color: Mint
I absolutely love these toothbrushes. They clean so well and there is just this perfect bristle hardness to it so that my teeth and gums feel like they’ve gone to the spa.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on January 25, 2026
★★★★★ 4
Super Soft & High Quality – Great Toothbrushes!
Color: Multi Color
Love these toothbrushes! The bristles are extra soft and comfortable, making them gentle on gums but still effective for cleaning. The overall quality is excellent, and they’re a solid pick for both adults and kids. Highly recommend for everyday brushing!
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on September 22, 2025
★★★★★ 5
Lovely dense and soft.
Color: Multi Color
Perfect toothbrush.
I’ve always loved a super stiff toothbrush, it just felt right, like scrubbing the grime off. BUT, I ended up scrubbing my gums into recession. So I’ve had to buy soft toothbrushes.
For years I’ve hated them. Waterpik, floss then brush and the brushing felt always felt like I wasn’t doing anything. I disliked everything about the bristles.
These were bought on a whim, they’re pretty and have four which is how many I needed to replace everyone’s toothbrushes.
I LOVE these. They’re definitely soft, in a way I haven’t felt before and can’t really articulate, but they’re also dense. There are a lot of bristles. The bristles feel like I’m getting my teeth very clean, like they’re getting into all the little areas they need to.
The only issue I have is they squeak a little and that can be annoying.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on October 12, 2025
★★★★★ 5
My New Go-To for Gentle Everyday Care!
Color: White
I’ve been loving my Boka Classic Manual Toothbrush, it’s truly transformed my brushing routine! 🪥 The extra-soft, activated-charcoal-infused bristles feel so gentle yet effective, especially along the gumline. They clean thoroughly without scratching or irritating sensitive gums, which has made a noticeable difference in comfort and overall oral health.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on February 12, 2026
★★★★★ 5
Get Yourself A Bright White Smile
Can't belive how great this works. You can actually see the staining it removes when you expel to rinse. A bit messy to use all be it being a powder. The taste isn't bad. I believe this works better than the whitening stripe, which to me are difficult to use. Gentle on your gums and teeth. I do not recommend and do not believe the manufacture does either to use on a daily basis. A bit pricey but so are the whitening strips. For a bright white smile I recommend this product.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on April 28, 2026