SKU: 41014215597

خودنوشت | Mother Mary Comes to Me | آزاد عورت ،،، آزاد اڑان | Arundhati Roy

Sale price$540.00 Regular price$600.00
Save 10%

Pay in installments of $150.00 with ShopPay, AfterPay and Klarna

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Sep 5 - Sep 10

Promo Codes Available:

For Your Every Summer RSVP, with Code: SUMMER15

Description

خودنوشت | Mother Mary Comes to Me | آزاد عورت ،،، آزاد اڑان | Arundhati Roy

اروندھتی رائے کی خودنوشت

اروندھتی رائے عالمی ادب میں اپنی ایک منفرد شناخت رکھتی ہیں کہ وہ اپنے تخلیقی دورِ آغاز سے ہی سیاسی اور سماجی موضوعات کو اپنی فکر ونظر کا محورومرکز بنا کر ادبی شہ پارہ کی صورت میں پیش کرتی ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ ان کا پہلا ناول ’’دی گاڈ آف اسمال تھنگس‘‘ کو نہ صرف عالمی شہرت کا حامل بُکر پرائز ملا بلکہ دیکھتے ہی دیکھتے ان کا یہ ناول عالمی ادب میں ایک ہاٹ کیک بن گیا۔ واضح ہو کہ ’’دی گاڈ آف اسمال تھنگس‘ ۱۹۹۷ء میں شائع ہوا تھا اس کے بعد ان کا دوسرا ناول ’’دی منسٹری آف آٹ موس ہیپّی نیس‘‘ ۲۰۱۷ء میں شائع ہوا اور اس کی بھی گونج عالمی ادب میں برسوں تک رہی ۔ اب ان کی یادیادشت پر مبنی جسے خود نوشت کے زمرے میں بھی رکھا جاسکتا ہے ’’مدر میری کمس ٹو می‘ ۲۰۲۵ء میں منظر عام پر آیا ہے اور اس سوانحی تحریر نے علمی وادبی دنیا میں ایک تہلکہ مچا دیاہے اگرچہ اس میں انہوں نے اپنی والدہ ’’میری رائے‘‘ کے ساتھ اپنے ذاتی تعلقات کو فکشن کا روپ دیا ہے اور ایک ماں اور بیٹی کے درمیان جو پاک رشتے ہوتے ہیں اس رشتے کی پیچیدگیوں اور فکری ونظری تضادات کو ایک منفرد اندازِ بیان میں تخلیقیت عطا کی ہے لیکن نہ جانے کیوں اس کتاب کے شائع ہوتے ہی نہ صرف ہندوستان بلکہ دیگر ممالک میں بھی ایک خاص نظریاتی طبقے کے شدت پسندوں کی طرف سے متنازع بنایا جا رہاہے اور خاص کر کتاب کے کور پر ان کی سگریٹ نوشی کرتی تصویر پر نازیبا تبصرے بھی کئے جا رہے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ اس وقت ہندوستان میں ان تمام ادیب وشاعر اور انصاف پسند انہ اظہارِ خیال کے علمبرداروں کو نشانہ بنایا جا رہاہے اور انہیںغیر مہذبانہ القاب سے نوازا بھی جا رہاہے جو حقیقت بیانی کو اپنی فکر ونظر کا حصہ بنا تا ہے۔ایسے وقت میں اگر اروندھتی رائے پر جارحانہ تبصرہ کیا جا رہاہے تو کوئی تعجب کی بات نہیں ہے ۔کیوں کہ اس سوانحی تحریر میں مصنفہ نے اپنے سماج کی روایتی قیود کو نہ صرف توڑنے کی کوشش کی ہے بلکہ معاشرے کی دقیانوسیت کے خلاف آوازِ بغاوت بھی بلند کی ہے۔انہوں نے اپنی ماں میری رائےؔ کو ایک خود مختار ، باغی فکر وذہن کی عورت قرار دیاہے اور اروندھتی رائے نے یہ بھی اعتراف کیا ہے کہ اس کی شخصیت کی تشکیل میں اس کی ماں کے افکارونظریات و عملی کردار کا بنیادی رول ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اروندھتی رائے نے اپنے ناول اور دیگر مضامین میں بھی ہمیشہ پسماندہ اور محروم طبقے کے تئیں بیداری ٔ مہم کی علمبردار رہی ہیں اور بالخصوص آزادیٔ نسواں کی مبلّغ رہی ہیں۔اس تازہ ترین کتاب کا طرزِ بیان ، بیانیہ ہے اور آغاز تا انجام یعنی مصنفہ بچپن سے لے کر اب تک کے تلخ وشیریں تجربات ومشاہدات کو ایک تخلیقی شہ پارہ بنانے کی جو علمی کوشش کی ہے اس میں وہ کامیاب ہیں ۔ اس خود نوشت میں وہ صرف اپنی ذات کی نفسیاتی اور جذباتی پرتوں کو نہیں کھولتیں بلکہ ایسا محسوس ہوتاہے کہ پورے معاشرے کی تصویر سامنے گردش کر رہی ہے۔ ان کی زندگی میں جس طرح کے مسائل اور مشکلات رہے ہیں جنوبی ہند میں عورتوں کی زندگی کس قدر دشوار کن ہوتی ہے اس حقیقت کو بیان کرتی ہیں اور یہ دکھانے کی کوشش کرتی ہیں کہ ہندوستانی معاشرے میں جہاں صدیوں تک عورت کو قید وبند میں رکھا گیا وہاں ان کی ماں میریؔ رائے کس طرح اپنے لئے نئی راہ بناتی ہیں اور دوسروں کیلئے مثالی بن جاتی ہیں۔ان کی یادداشتوں پر مبنی یہ واقعاتی تحریر ایک نئے انداز کا تخلیقی تجربہ ہے جس میں انہوں نے منظر نگاری، مکالمہ ، بیانیہ اور جذباتی لہروں کو اپنے مخصوص اندازِ بیان میں پیش کیا ہے۔
 ہم سب اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ اروندھتی رائے کی نثر بھی شاعرانہ اور اوصاف سے بھرپور ہوتی ہے ، ایک خاص طرح کا بہائو ہوتا ہے جس میں بہتی ندی کی طرح سرگم کے سُر سنائی دیتے ہیں ۔ یہ خوبی ’’مدر میری کمس ٹو می‘‘ میں بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔
  چوں کہ یہ خود نوشت ہندوستانی معاشرے کی آئینہ دار ہے اس لئے بعض مقام پر قاری کو یہ بات کھٹکتی ہے کہ مصنفہ نے اپنی ذاتی زندگی کی تفصیلات کو قدرے طوالت بخشی ہے ۔لیکن میرے خیال میں مصنفہ کے ذاتی تصورات ان جیسی لاکھوں خواتین کے محسوسات واحساسات کے آئینہ دار ہیں ۔اردو زبان وادب کے قارئین کے لئے یہ کتاب بہ ایں معنی غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے کہ اردو میں اب اس طرح کی احتجاجی و انقلابی فکر ونظر پر مبنی تحریریں اور بالخصوص خواتین کے ذریعہ کم ہی لکھی جا رہی ہے ۔اس کتاب میں نہ صرف انسانی رشتوں اور تعلقات کے مختلف پہلوئوں کو سمجھنے کے اسباق موجود ہیں بلکہ ماں کی شفقت اور بیٹی کی بغاوت دونوں ایک ایسی دنیا آباد کرتی ہے جو ذہن ودل کو جھنجھورتی بھی ہے اور خود احتسابی پر مجبور بھی کرتی ہے۔کتاب کے اوراق یہ شواہد پیش کرتے ہیں کہ مصنفہ نے اپنی ماں میریؔ رائے کو تعلیمی اصلاحات کی علمبردار اور ایک بہادر خاتون کے طورپر پیش کیاہے ساتھ ہی ساتھ ان کے فکری ونظری تضادات کو بھی بے باکانہ طورپر تحریر کیاہے ۔مختصر یہ کہ اس کتاب کے مطالعے سے یہ حقیقت عیاں ہو جاتی ہے کہ اگر فنکار کا ذہن تخلیقیت کی آماجگاہ ہے اور فنِ اظہار پر وہ عبور رکھتا ہے تو اپنی ذاتی زندگی کے بیانیے کو بھی اعلیٰ ادب کا نمونہ بنا سکتا ہے اور اس میں انسانی معاشرے کے تمام تر نشیب وفراز کے ساتھ سیاسی اور سماجی بصیرت وبصارت کا اچھوتا نمونہ پیش کر سکتا ہے۔اس لئے اس کتاب میں ماں اور بیٹی کے درمیان محبت اور نفرت کے قوس وقزح صرف ایک خاندانی مسئلہ نہیں ہے بلکہ ایک وجودی اور تخلیقی بحران بھی ہے۔ اس کتاب کو نسائی سیاست اور سماجی انصاف کی جدو جہد کا آئینہ قرار دیا جا سکتا ہے۔

Shipping Notes
  • Free Standard Shipping on $100+ Orders to the USA.
  • Except Preorder products are shipped in 48 hours.
  • Delivery to the USA:
  1. Standard Shipping : 3-10 business days
  • If time is of the essence, please consider selecting expedited delivery for faster service.
Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy
SKU: 41014215597

Discover Niche Categories That Outsell

Top-Converting Item to Boost Your Average Order

4.6 ★★★★★
Based on 19 reviews
Sort
Highest Rating
Newest First
Oldest First
Product Reviews
J
Verified Purchase
JPen
Birmingham, US
★★★★★ 5
Excellent style and quality for price
Color: Grey Blue, Size: Medium
Very nice quality and affordable price. Fabric is soft and smooth, very few wrinkles after washing and drying and easy to iron. Seems durable for machine washing and drying. Fits true to size.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on January 27, 2026
J
Verified Purchase
James A. Atkinson ( Tank )
Louisville, US
★★★★★ 4
... size runs small
Color: Army Green, Size: XX-Large
It's a great dress shirt ... (size runs small, so order one sze up) ....wore to a wedding and received more than a dozen compliments on this shirt...also looks good tucked or untucked, highly recommend...👍🏼👍🏼
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on April 3, 2026
J
Verified Purchase
John
Dallas, US
★★★★★ 5
Great Quality
Color: White, Size: Large
This company is just the best not only there shirts but everything they sell is great quality and perfect fits each and every time and the deals are even better I highly recommend
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on April 21, 2026
W
Verified Purchase
William Woodard
Louisville, US
★★★★★ 5
Best dress shirt ever
Color: Denim Blue, Size: Large, Color: Denim Blue, Size: Large
The fit is perfect. I really like the trimming down the button line.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on April 20, 2026
K
Verified Purchase
kimberly mitchell
Battle Creek, US
★★★★★ 5
Nice style
Color: Denim Blue, Size: X-Large
Perfect fit
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on April 21, 2026

recommand products